بنگلورو، 27؍اپریل(ایس او نیوز)شہر بنگلورو میں جس رفتار سے کورونا وائرس کے معاملات بڑھ رہے ہیں اسی رفتار سے نہ صرف کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ دیگرامراض کے سبب مرنے والوں کے ساتھ ساتھ کورونا کے سبب رشتہ داروں کی موت کے صدمہ سے سے مرنے والوں کی بھی خاصی تعداد سامنے آ رہی ہے۔
شہر بنگلورو کے تین بڑے مسلم قبرستانوں میں روزانہ ہونے والی تدفین کی تعداد سے یہ اندازہ ہو تا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد چاہے وہ کورونا سے ہو یا دیگراسباب سے اس میں عام دنوں کے مقابل تقریبا10گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ میسورروڈ قبرستان میں روزانہ جہاں عام دنوں میں چار یا پانچ میتوں کی تدفین ہو ا کرتی اب یہ تعداد بڑھ کر روزانہ 40کے قریب ہو چکی ہے۔ قدوس صاحب قبرستان میں جہاں روزانہ 4تا 5میتوں کی تدفین ہوا کرتی اس قبرستان میں بھی روزانہ تقریباً 30میتوں کی تدفین ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹیانری روڈ قبرستان میں جہاں روزانہ 8تا 10میتوں کی تدفین ہوتی تھی اب اس قبرستان میں روزانہ 30میتوں کی تدفین ہو رہی ہے۔ ان میں کورونا اور غیر کورونا دونوں وجوہات سے مرنے والوں کی تعداد شامل ہے۔
میسور روڈ قبرستان کی نگراں سی ایم اے ریلیجئس کمیٹی کے کنوینر افسر بیگ قادری اورجائنٹ سکریٹری حسین شریف نے نمائندوں کو بتایا کہ اس قبرستان میں عام دنوں میں روزانہ 4تا 5لوگوں کی تدفین ہوا کرتی تھی اب کورونا وائرس کی دوسری لہر کے سبب یہ تعداد بڑھ کر 40کے آس پاس ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبرستان میں تدفین کے لئے تو کوئی دشواری نہیں البتہ اتنی بڑی تعداد میں میتوں کی آمد سے غسل دینے کے لئے دقت پیش آ رہی ہے۔ چونکہ قبرستان میں ایک مستقل غسل خانہ ہے اور میتوں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ایک عارضی غسل خانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن جتنی تعدا د آ رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ غسل خانہ بھی ناکافی محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں میتوں کی آمد کے سبب قبر کھودنے والے عملہ کو بھی کافی زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا سے متاثر ہو کر مرنے والے افراد کی تدفین کے لئے رضاکاروں کی جماعت سی ایم اے کی نگرانی میں مسلسل کام کر رہی ہے۔ شہر کے قدوس صاحب قبرستان میں بھی روزانہ 29تا30میتوں کی ان دنوں تدفین ہو رہی ہے۔
جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ کے سکریٹری عثمان شریف نے بتایا کہ قبرستان میں جہاں عام دنوں میں 3سے 4میتوں کو دفنایا جاتا اب یہ تعداد غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ اس ماحول کے خوف سے یا اپنے اقرباء کی موت کے صدمہ سے مر رہے ہیں اس لئے اموات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قبرستا ن میں چونکہ قبر کھودنے والا عملہ محدود ہے اس لئے زیادہ تعداد میں میتوں کی تدفین کے سبب ٹرسٹ بورڈ نے قبروں کی کھدائی کے لئے جے سی بی کو استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میتوں کی تدفین کے لئے قبرستان کے عملہ کے ساتھ مقامی رضاکار بھی مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔عثمان ریف کا کہنا ہے کہ حکومت نے میت کی تدفین میں صرف 20افراد کو شرکت کرنے کی اجازت دی ہے اس لئے تدفین میں آنے والوں کی تعداد کو محدود رکھنے کی کوشش کی جائے اور ساتھ ہی ایک ساتھ اگرمتعدد میتوں کی تدفین ہو رہی ہے تو اس مرحلہ میں سماجی فاصلہ کا خیال رکھ کر آنے والے اپنے آپ کو اس مہلک وباء سے محفوظ رکھیں۔ شہر کے ٹیانری روڈ قبرستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ یہا ں عام دنوں میں روزانہ8سے 10میتوں کی تدفین ہو ا کرتی۔ اس قبرستان میں کورونا سے متاثر ہو کر مرنے والی افراد کی تدفین کے لئے کام کر نے والے رضا کاروں کی ٹیم کے سربراہ سید رسالت جاہ عرف تفو نے بتایا کہ اب اس قبرستان میں روزانہ 30میتوں کی تدفین ہو رہی ہے جن میں سے8تا10اموات کورونا متاثرین کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قبرستان میں غسل خانہ کا کوئی کوئی مسئلہ نہیں صرف کورونا سے متاثر ہونے والوں کو غسل دیا جاتا ہے۔ باقی میتوں کو گھرو ں سے ہی غسل دے کر قبرستان لایا جاتا ہے اس لئے زیادہ پریشانی نہیں ہو تی۔